Arif Blog عارف بلاگ A bilingual blog, which carries news, views, information etc, all in simple Enligsh and Urdu.

19Feb/080

ق لیگ کیسے ہاری

دھاندلی کے مبینہ منصوبوں‌ کے باوجود ق لیگ کو شکست کیسے ہوئی۔ ایک تجزیہ میرے بلاگ zamima.com پر

Fear Factor Counter-acts in Polls

18Feb/081

میرے بلاگ ضمیمہ ڈاٹ کام سے دو تحاریر

میرے بلاگ ضمیمہ ڈاٹ کام سے دو تحاریر، نبیل بھائی سے درخواست ہے کہ وہ میرا فیڈایڈریس جلدی اپ ڈیٹ کر دیں۔ شکریہ  

“Moderation” trickled down in most peaceful province

------------

بلاگ کے پرما لنک خوبصورت بنائیں

17Feb/080

میرے نئے بلاگ پر دو مزید دلچسپ تحاریر

انتخابات کے بعد صورتِ حال کی ساڑھے چار پیش گوئیاں

------

لوٹا انتخابات سے دستبردار، خواجہ سراؤں کا بائیکاٹ

16Feb/082

میرا بلاگ اپنے ڈومین پر

میں‌ نے اپنا بلاگ ذاتی جاگیر میرا مطلب ہے ڈومین www.zamima.com پر منتقل کردیا ہے۔ پاپ اپ اشہتارات سے بھی جان چھوٹ گئی ۔

نئی جگہ پر میری دو تحاریر

انتخابات : کچھ دلچسپ اعدادو شمار

انتخابات اور میڈیا کی تیاریاں

13Feb/081

ویلنٹائن کی کہانی، حقیقت کیا ہے؟

وینلٹائن ڈے کا ایک پرانا کارڈ سینیٹ ویلنٹائن تیسری صدی عیسوی میں‌ روم میں رہتے تھے۔ اس وقت روم پر بادشادہ کلاڈیس کی حکمرانی تھی۔ بہت سے لوگ بادشاہ کو پسند نہیں‌ کرتے تھے اور کلاڈیس کو اپنی فوج میں نئی بھرتیوں‌ کی کمی کا سامنا تھا۔ بادشادہ کو محسوس ہوا کہ بیشتر مرد اس وجہ سے فوج میں‌ بھرتی نہیں ہوتے کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں‌ ‌کو چھوڑ کر نہیں‌ جانا چاہتے لہٰذا کلاڈیس نے روم میں‌ شادیوں‌ پر پابندی لگا دی۔
ویلنٹائن اس وقت ایک پادری تھے اور انہوں نے نئے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے چوری چھپے نوجوان جوڑوں‌ کی شادیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایک رات سینٹ ویلنٹائن پکڑے گئے اور انہیں‌ قید کردیا گیا۔ ویلنٹائن کو سزائے موت سنا دی گئی تھی۔

جیل میں‌ بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں‌ ویلنٹائن سے ملنے آئے۔ ان میں‌ جیلر یا قید خانے کے ایک محافظ کی بیٹی بھی تھے ۔ ویلنٹائن اور اس لڑکی کو محبت ہوگئی۔ جس روز ویلنٹائن کو سزائے موت دی گئی اس دن انہوں نے اپنے محبوبہ کو لکھا ’’تمہارے ویلنٹائن کی طرف سے پیار‘‘ ۔ روایت کے مطابق یہ 14 فروری 269 عیسوی کا دن تھا اور اسی دن کی یاد میں‌ محبت کرنے والوں کے درمیان پیار بھرے پیغامات کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ ’’تمہارے ویلنٹائن کی طرف سے پیار‘‘ والا جملہ آج بھی ان پیغامات کا حصہ ہوتا ہے۔

یہ ویلنٹائن کی وہ کہانی ہے جو مغرب میں‌ بے انتہا مقبول ہے لیکن اس روایت سے ہٹ کر ایک تاثر یہ ہے کہ عیسائی چرچ نے قدیم روم کے غیر عیسائی لپرکالیا فیسٹیول کے متبادل کے طور پر یوم ویلنٹائن منانا شروع کیا۔

13Feb/081

ایک ’’عظیم عالمی رہنما‘‘ کا قصہ

یوگنڈا کے سابق صدر عیدی امین 1976 میں فلسطینی ہائی جیکروں‌ نے 98 اسرائیلی مسافروں کے ساتھ ایئرفرانس کی ایک پرواز کو ہائی جیک کرلیا اور اسے یوگنڈا کے انٹیبی ایئرپورٹ پر لے گئے۔یہ ہائی جیکر مختلف ممالک کی جیلوں‌ میں‌ بند فلسطینیوں یا ان کے کاز کے لیے کام کرنے والے غیرملکیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یوگنڈا اسرائیل سے ہزاروں کلومیٹر دور تھا اور اس باعث ہائی جیکروں‌ نے اسے محفوظ سمجھا۔ وہ اسرائیل سے اپنے مطالبات منوانے میں‌ کامیاب ہونے کے قریب ہی تھے کہ یوگنڈا کے صدر عیدی امین نے اپنی بس ایک چھوٹی سی معصوم خواہش کے چکر میں‌ پورے کھیل کو لات مار دی۔

ہائی جیکروں نے اسرائیل کو مطالبات ماننے کے لیے ایک محدود ڈیڈ لائن دی تھی اور جیسے جیسے ڈیڈ لائن قریب آئی۔ مغوی مسافروں‌کے رشتہ دار اسرائیلی حکام پر زور دینے لگے کہ ان کے پیاروں کی رہائی کے لیے ہائی جیکروں‌ کے مطالبات مان لیے جائیں۔ یہ اسرائیلی حکام کے لیے مشکل تھا لیکن ڈیڈ لائن ختم ہونے سے کچھ دیر پہلے تک مغویوں‌کے رشتہ دار ایسے پھٹ پڑے کہ حکام بھی سوچنے پر مجبور ہوگئے تھے۔ لیکن اس دوران ان کی ایک اور چال کامیاب ہوگئی۔

عیدی امین کے ماضی میں اسرائیل سے اچھے تعلقات رہے تھے تاہم جب اسرائیل نے انہیں‌ اسلحہ دینے سے انکار کیا تو یہ تعلقات بگڑ گئے۔ اب ہائی جیکنگ ڈرامے کے دوران اسرائیل نے عیدی امین سے رابطہ کیا اور انہیں‌ تاثر دیا کہ اگر وہ مغویوں‌ کی رہائی کے لیے مدد دیں‌ تو انہیں‌ نوبل امن انعام مل سکتا ہے، عالمی سطح‌ پر ان کی پذیرائی ہوگی۔ ان باتوں نے عیدی امین کا سینہ اتنا پُھلا دیا کہ بس ۔۔۔ وہ فوراَ ہی اغواء کاروں کو قائل کرنے نکل پڑے اور ڈیڈ لائن میں 72گھنٹے کی توسیع کروا لی۔ عیدی امین صاحب خوش تھے کہ وہ مسئلے کے پرامن حل کیلئے سمجھوتہ کرانے جا رہے ہیں لیکن ان 72 گھنٹوں‌کے اندر ہی اسرائیل نے اپنے کمانڈوز طیاروں‌کے ذریعے انٹیبی پہنچائے اور مغوی چھڑا لیے۔ اغواء کار تو ہلاک ہوئے ہی، ساتھ میں یوگنڈا کے درجنوں فوجی بھی مارے گئے۔

عیدی امین کے ہاتھ آئی رسوائی، ان پر اسرائیلیوں‌نے الزام لگایا کہ انہوں‌ نے ہائی جیکروں سے ساز باز کی تھی۔ عیدی امین اپنے سرحدوں‌ کی خلاف ورزی پر کسی سے احتجاج بھی نہ کر سکے۔ یہ سب عظیم عالمی رہنما بننے کے شوق میں‌ ہوا۔ یہ شوق اب بھی کئی مسلمان رہنماؤں میں‌ پایا جاتا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس تو شاید عیدی امین کو بھی پیچھے چھوڑ جائیں۔

ایسا نہیں‌ ہے کہ مجھے ہائی جیکروں سے کوئی ہمدردی ہے۔ یہ کوئی مناسب طریقہ نہیں تھا اور 2007ء‌ میں‌ منظر عام پر آنے والی ایک دستاویز سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہائی جیکنگ میں‌ خود اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ ہائی جیکنگ کے وقت پیرس میں‌ برطانوی سفارتخانے میں‌ تعینات ایک سفارتکار ڈی ایچ کولونز نے لکھا تھا کہ انہیں‌ معلوم ہے یہ ہائی جیکنگ اسرائیلی خفیہ ایجنسی شین بیت کے تعاون سے ہوئی تھی۔ جس کا مقصد فلسطینیوں‌ کی جدوجہد کو بدنام کرنا تھا۔ اسرائیل نے اپنے ایجنٹ فلسطینی تنطیم پی ایل او میں داخل کر رکھے تھے۔

9Feb/082

ایک بولتی تصویر

آج کے روزنامہ جنگ میں‌شائع ہونےوالی ایک بولتی تصویر

ڈاکو پکڑا گیا

9Feb/081

’جوانی میں اللہ ہو، بڑھاپا آئی لو یو‘

اسلم بھائی بس چند ماہ قبل تک بہت شائستہ، نفیس اور ہر قسم کی برائیوں سے پاک انسان تھے جن کی اپنے اردگرد کے لوگوں میں بڑی عزت تھی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی بہت صاف ستھرے انداز میں گزاری، ملازمت اور گھر پر توجہ، اپنے کام میں ماہر، وہ طویل عرصے سے مختلف اخبارات میں سرکولیشن منیجر کی حیثیت سے کام کرتے آ رہے ہیں اور 60 برس سے زیادہ عمر کو پہنچنے پر ان کا تجربہ بھی اچھا خاصا ہوچکا ہے۔

لیکن گذشتہ چند ماہ سے اسلم بھائی کی زندگی میں سے بہت کچھ خارج ہوگیا ہے اور کچھ نیا شامل ہوا ہے، نفیس اور شائستہ تو وہ اب بھی کہے جا سکتے ہیں تاہم باقی اعزازات رخصت ہوگئے۔ اب وہ آرٹس کونسل میں اسٹیج ڈانسر ٹائپ خواتین کے ساتھ بیٹھے وقت ضائع کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اپنی باقی ماندہ جمع پونجی بھی اڑائے جا رہے ہیں۔

کہانی کوئی چار پانچ ماہ پہلے شروع ہوتی ہے جب اسلم بھائی کے ایک دوست نے تجویز رکھی کہ دونوں مل کر ڈیفنس کے علاقے میں اسٹیٹ ایجنسی کھولتے ہیں۔ اسلم بھائی کے دوست کے لیے تین چار لاکھ روپے کوئی بڑی رقم نہیں تھی لیکن اسلم بھائی کے بینک میں کل رقم ہی ڈھائی لاکھ کے قریب تھی۔

7Feb/081

How to Make Taliban

As US intelligence agencies put their annual threat assessment before Congress, with title of "Al-Qaeda Safe haven" for Pakistan's tribal belt, I try to evaluate something else which matters more.

A man from Pakistan's tribal areas has told me the simple reason of growing militancy and extremism there and the reason is so simple that every one, even a lay-man would understand it easily, though some minds in Islamabad and Washington DC would not.

The tribal man, who met me on a bus, put it this way: When government bomb, either by aircrafts or artillery, an area many people of one or other family are killed but some survive and these survivors turn up militants, fighting to avenge the deaths of there loved-ones. They are less motivated my hard-line Islamist ideology than their anguish.

Isn't it something to be understand easily? These angry men can be used by any group.

First operation in the tribal belt was launched back in 2002, with bombing of a suspect militant hideout in South Waziristan Agency, the government said several militants, including foreigners, were killed but Pakistan's well reputed English daily Dawn reported shoes and clothing of children and women were recovered from the bombed site and these people were believed to be from Wazir tribes.

5Feb/080

تردیدوں پر زور

shujaat.jpgمسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت نے خود سے منسوب اس بیان کی تردید کی ہے کہ بلوچستان اور لال مسجد آپریشن ان کی حکومت کی غلطیاں تھیں۔ چند روز پہلے ق لیگ دور کے وزیر تعلیم اشرف قاضی نے اس خبر کی تردید کی تھی کہ انہوں نے سابق فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین سوسائٹی کے اجلاس میں شرکت کی ہے جس میں صدر مشرف کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔تردیدوں پر آج کل زور ہے اور اکثر یہ تردیدیں خود میں ایک خبر لیے ہوتی ہیں۔ مثلاً پیر کے روز چوہدری شجاعت کی تردید کے ساتھ سوئی سدرن گیس کمپنی نے کوئٹہ سے ایک بیان میں اس خبر کی تردید کی کہ مسلم لیگ ( ق) کے مرکزی انتخابی دفتر میں گیس کا استعمال غیر قانونی ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے دفتر میں گیس کے غیرقانونی استعمال کی خبر شاید کوئٹہ ہی کے چند اخبارات میں چھپی تھی، تردید کو دیگر اخبارات بھی شائع کریں گے اور نہ جاننے والے بھی جان جائیں گے کہ دال میں کچھ کالا تھا۔کوئی ایک ہفتہ پہلے سندھ رینجرز کی جانب سے بیان سامنے آیا تھا کہ انتخابات کے موقع پر گڑ بڑ کرنے والوں کو گولی مار دی جائے دی جائے گی۔ اس کے اگلے روز رینجرز کی تردید آئی کہ ہم نے گولی مارنے کی بات نہیں کی بس گڑ بڑ کرنیوالوں سے سختی سے نمٹنے کا کہا تھا۔ اب یہ سوچنا تو مشکل ہے کہ گڑ بڑ کی تیاریاں کرنے والوں نے رینجرز حکام کو گولی والے بیان سے ہٹنے کو کہا تھا۔لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید اشرف نے جو ایکس سروس مین سوسائٹی کے اجلاس میں شرکت کی تردید کی اس کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ سابق وزیر تعلیم صدر مشرف کو ناراض نہیں کرنا چاہتے۔ چوہدری شجاعت کے غلطیوں کے اعتراف والے بیان کو ملک کے بڑے روزنامے ''جنگ'' نے لیڈ اسٹوری کے طور پر شائع کیا تھا۔

Pages

Categories

Blogroll

Archive

Meta